Thursday, 22 December 2016

Pakistan's requests for Facebook data

There has been an alarming rise in requests for information about the extent of the people who use Facebook from Pakistan.

The discovery was reported in half of Transparency Facebook.

The government received 719 applications for data acquisition via Facebook from Pakistan from January 2016 through June 2016 and July 2015 to December 2015 the number was 471, ie Pakistan by more than 65 percent in six months Increased.

Facebook said in July the government had asked for data about users and accounts 1015 to December 2015 the number was 706, an increase close to 70% was observed in this regard.

Facebook of 719 requests data or information provided by the Government in cooperation 65.09 percent.

It was also hit by request to 363 users or accounts data or record of 280 requests to investigate any offense from Facebook from Pakistan.

This is the first time that Facebook has made part of the report storing data records.

According to the report, Pakistan's legal requests due to telecommunications was blocked content of 25 pages that violated Pakistani laws, blasphemy, based condemn insults and sovereignty of the national flag, while from July to December 2015 This number was 6.

The book reports that 27 percent of government requests to obtain information from users around the world and the United States have been at the top.

Altogether were 59 thousand 229 applications worldwide, while the number was 46 thousand 710 in the last six months.

Facebook said in a statement that any government 'backdoor' or no direct access to user data and should answer it is decided after evaluating each application or not.

Earlier last year, Facebook is in response to government requests that the report was quoted when it related to a criminal case.

Instagram and WhatsApp are also owned by Facebook, but have not released the statistics on requests from users.

Facebook also revealed that 50 percent of data requests from governments around the world were received with the order of language to the company related to the user instructed to stop telling about such a request.

Government accounts 192 275 applications in January and July 2015 from Pakistan between December 2014 and July 2014 data was seeking 150 users or accounts through 100 applications.

Sunday, 11 December 2016

Blast in Turkey 10.12.2016

Turkish cities in the number of people killed in two bombings in Istanbul has 29, while the number of injured has reached 166. Turkish Interior Ministry says killed 29 people, 27 were policemen.
10 suspects from different parts of the city, the Interior Ministry said was taken into custody. 6 injured condition is critical, while 17 operations. Both bombs were made from the remote control.

Wednesday, 7 December 2016

The PIA flight from Islamabad to Chitral missing

Islamabad: Pakistan disappeared near International Airlines (PIA) passenger plane coming from Islamabad to Chitral havelis.
According to preliminary reports, PIA flight PK-661 was carrying more than 40 people.
According to Islambad disconnected from the aircraft radar before arriving here.
From the PIA and Civil Aviation Authority the  disappearance of the  aircraft currently has not been confirmed
  

یہ تلور کا شکار اتنا خاص کیوں ہے …؟

(تحریر انعام ملک)

 یہ شکار صرف عرب شہزادے ہی کیوں کرتےہیں..؟ گورے بھی شکار کے بہت شوقین ہوتے ہیں لیکن کبھی سنا نہیں کہ شکار کے لئے وہ یہاں آۓ ہوں . ویسے بھی ایک معمولی پرندے کیلئے عربوں کے اربوں کی ضرورت کیوں پڑتی ہے ..؟؟؟ اور یہ شکار پاکستان انڈیا اور بنگلہ دیش جیسے ملکوں میں ہی کیوں کیا جاتا ہے..؟؟ تلور تو ایک آزاد پرندہ ہے . سال میں دو دفعہ اپنا سفر ٹھنڈے ممالک سے گرم ممالک اور پھر گرم سے ٹھنڈے ممالک کی طرف کرتا ہے. یہ پرندے اس سفر کے دوران دنیا کے بیسوں ممالک سے گزرتے ہیں جن میں عرب ممالک بھی شامل ہیں .
پاکستان میں مقامی لوگ بھی اس کا شکار کرتے ہیں. مجھے خود ایک دفعہ بہاولپور کے ایک دوست کے ساتھ شکار کا اتفاق ہوا تھا اور تلور کھانے کا موقعہ بھی ملا . ذائقہ میں گوجرانوالہ سے ملنے والے چڑوں سے زیادہ کمال کا نہیں تھا . اور مجھے ذاتی طور پر اس میں کوئی ایسی خاص بات نظر نہیں آئی کہ اس کے شکار کے لئے اتنی محنت یا سرمایا خرچ کیا جائے… پھر بھی عرب شہزادے اس شکار کے اتنے شوقین کیوں ہوتے ہیں اور یہاں آکر ہی کیوں …؟ حالانکہ ان کو شکار زندہ یا مردہ ان کے ممالک میں بصد خوشی پہنچایا جا سکتا ہے . لیکن اندر کی کہانی اس شکار سے بھی زیادہ ہولناک اور بربریت سے بھری ہے .
پچھلے دنوں میری ملاقات بہاولپور میں عرب شہزادوں کی سکیورٹی پر مامور ایک سکیورٹی آفسر سےہوئی جو ایک ریٹائر میجر تھے اور اسلام آباد میں کوئی نئی جاب تلاش کر رہے تھے. جبکہ ان کا کہنا تھا کہ وہاں وہ دو لاکھ کی تنخواہ لیتے تھے . میں نے سوال کیا "آپ نے یہ جاب کیوں چھوڑی.. ؟ " میجر صاحب نے جواب دیا، " فوجی ہوں. ضمیر نے گوارہ نہیں کیا " میرے لئے یہ جواب حیرت انگیز تھا. لیکن جو کچھ ان سے سنا پیش خدمت ہے ۔ ان میجر صاحب کا کہنا تھا, .. " سکیورٹی آفیسر کی ذمہ داری ہوتی ہے مہمان کو ائیرپورٹ سے لے اور ہر لمحہ اس کے ساتھ رہے اور اسے واپس ائیرپورٹ پر بحفاظت پہنچائےاور مہمان ہر وقت اس کی نظر میں رہے لہذا اس سے زیادہ کسی مہمان کی ذاتی مصروفیات کو کوئی نہیں جانتا.
ہم سب نے کبھی غور کیا ہے کہ عرب شہزادے جب بھی شکار پر آتے ہیں اکیلے کیوں آتے ہیں ان کے ساتھ ان کی فیملی یا بیویاں کیوں نہیں آتی؟ کیا ان کی بیگمات کو تلور اور ہرن کا گوشت پسند نہیں ؟؟؟ کہانی کچھ یوں ہے .. شہزادے جب شکار گاہ میں آتے ہیں تو محل سے دور خیمہ بستی قائم کی جاتی ہے جہاں یہ دوپہر کے بعد شکار شروع کرتے ہیں شکار میں شکرے ،گھوڑے، کتے اور باز استعمال ہوتے ہیں . شکار مغرب سے پہلے ختم ہو جاتا ہے پھر مغرب کی نماز کی با جماعت ادائیگی ہوتی ہے اور شکار پکایا جاتا ہے باربی کیو 'ہانڈی ,کڑھائی 'سٹیم روسٹ کے ساتھ ساتھ ہزاروں طرح کے میٹھے اور ہریسہ اور پھر عشاء کی باجماعت نماز سے پہلے اسے کھا لیا جاتا ہے . پھر شہزادے اپنے اپنے خیموں کا رخ کرتے ہیں جہاں حکومت پاکستان ، مقامی انتظامیہ اور لوگوں کے تعاون سے ، ان شہزادوں کی نفسانی ہوس پوری کرنے کیلئے کم عمر مقامی لڑکیوں کو پیش کیا جاتا ہے .
اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے لڑکیاں مقامی یعنی پاکستانی ہوں کسی کی عمر بارہ یا چودہ سال سے زیادہ نہ ہو. شہزادوں کو پیش کرنے سے پہلے پاکستان کی ان بیٹیوں کو مشک و عنبرسے نہلا دھلا کر "خاص ٹریننگ" دی جاتی ہے تا کہ شہزادوں کو کسی طرح کی "مزاحمت یا پریشانی" کا سامنا نہ ہو. اندر کے حالات تو کوئی نہیں جانتا کہ ان بچیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے لیکن وہی ہوتا ہوگا جو ایک باز ایک ننھی سی چڑیا کے ساتھ کرتا ہے ." میجر صاحب نے کہا ، "میں نے خیموں کے باہر "وہ آوازیں" سنی ھیں جو کسی عقوبت خانے سے آتی ہیں ." اس تجربے کو بتاتے ہوئے ایک فوجی کی آنکھوں میں آنسو تھے . خود سوچ لیں جہاں ایک فوجی کی ہمت جواب دے گئی وہاں ظلم کس نہج پر ہوگا . بربریت کیسے محو رقصاں ہو گی. شیخ زید ہسپتال کے ڈاکٹر بھی اس بات کے گواہ ہیں جب ایمرجنسی میں یہ کم سن پاکستانی بیٹیاں گہرے اندرونی زخموں کی وجہ سے کئی کئی دن ہسپتال میں گزارتی ہیں اور کئی تو اپنی جان سے جاتی ہیں ۔
میرا پوری قوم سے سوال ہے… کیا ہم دلال ہیں یا یہ ملک ہیرا منڈی ہے؟ چند سکوں اور ویزوں کی مراعات کے بدلے ہم اپنی بیٹیاں بیچ دیتے ہیں . کس کام کا ہمارا ایٹم بم .. کس کام کی یہ آزادی، جو ہزاروں جانیں دے کر ملی تھی ..؟؟ کہاں جاتی ہے غیرت قومی، جب یہ شہزادے آپس میں بیٹھ کر پاکستانی قوم کی عزت کی دھجیاں اڑاتے ہیں. ہم جن ممالک کے شہزادوں کے سامنے کمر تک جھکا کے کورنش بجا لاتے ہیں ان کا پورا ملک پاکستان کے ایک شہر سے بھی چھوٹا ہوگا .. اور کمزور اس قدر کہ اگر ایک بریگیڈ فوج بھیج دی جائے تو جنگ لڑے بغیر ہیتھار ڈال دیں گے . لیکن میرے خیال میں قصور ان شہزادوں کا نہیں قصور ہمارا ہے. کیونکہ جب ہم قومی عزت و غیرت کو تھال میں رکھ کر سر بازار کھڑے ہوں گے تو خریدار تو کوئی بھی ہو سکتا ہے. ویسے اتنی بےعزتی اور بے توقیری کے بعد ہمیں یہ اٹیم بم اپنے دارالحکومت میں رکھ کر چلا لینا چاہیئے. شاید ہمارے بعد یہاں جو کوئی بھی قوم دوبارہ آباد ہو وہ ہماری طرح اس زمین پر بوجھ نہ ہو ۔

ali


Subscribe To Our Email Newsletter & Receive Updates Free